لاہور (آن لائن) رائے ونڈ میں تبلیغی اجتماع کے قریب نثار چیک پوسٹ پر دھماکہ، 4پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد شہید ،30سے زائد افراد زخمی، زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ریسکیو 1122 سمیت دیگر امدادی ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو رائے ونڈ تحصیل ہسپتال ، جناح ہسپتال، جنرل ہسپتال اور شریف میڈیکل کمپلیکس میں طبی امداد کے لئے منتقل کر دیا گیا ہے۔متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق رائے ونڈ میں تبلیغی اجتماع کے قریب نثار چیک پوسٹ پر بم دھماکہ ہوا جس کے

نتیجے میں 4 پولیس اہلکاروں سمیت9 افراد شہید اور30 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ دھماکہ اتنی شدید نوعیت کا تھا جس کی آواز دور دور تک سنائی دی گئی۔ دھماکہ میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں میں سب انسپکٹر محمد اسلم، کانسٹیبل تنویر احمد اور سعید شامل ہیں جبکہ زخمی ہونے والوں پولیس اہلکاروں میں اے ایس پی، ایس ایچ او رائے ونڈ ،سب انسپکٹر منظور، کانسٹیبل حامد، نعیم، فاروق، کرامت، اکرم ، سعید، اسرار اور جاوید سمیت دیگر افراد بھی شامل ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیر لیا۔ دھماکے کے فوری بعدلاہور پولیس نے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی اور جائے وقوعہ کے گردونواح میں سرچ آپریشن شروع کر دیا جبکہ کسی بھی مشتبہ شخص کو حراست میں نہیں لیا گیا ۔جائے وقوعہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ، دھماکے کی جگہ پر رینجرز کی کوئیک رسپانس فورس، فرانزک ماہرین سمیت پولیس افسران نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ دھماکے کی نوعیت کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ پولیس کی جانب سے رائے ونڈ تحصیل ہسپتال اور شریف میڈیکل کمپلیکس سمیت متعدد چیک پوسٹوں کی سکیورٹی بھی سخت کر دی گئی۔ لاہور کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر تے ہوئے سینئر ڈاکٹرز کو زخمیوں کے علاج معالجہ کے لئے ڈیوٹی پر تعینات کر دیا گیا ۔رائے ونڈ میں ہونے والے دھماکے کے بعد آئی جی پنجاب پولیس کیپٹن (ر) عارف نواز، سی سی پی او لاہور امین وینس، ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف، صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر، ڈپٹی کمشنر لاہور سمیر احمد سید، لارڈ میئر لاہور مبشر جاویدجائے حادثہ پر پہنچ گئے جبکہ صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیرنے دھماکہ میں ہونے والی زخمیوں کو سرکاری ہسپتالوں میں دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا اور زخمیوں کی عیادت بھی کی۔آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ بظاہر تو یہ خودکش دھماکہ لگتا ہے لیکن تحقیقاتی ٹیمیں تفتیش کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد شہید ہوئے ہیں۔ ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف کا کہنا ہے کہ دھماکے میں پولیس اہلکاروں کو ٹارگٹ کیا گیا ہے۔دھماکہ پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی کی تبدیلی کے وقت ہوا۔ ایس پی صدر عمر فاروق کا کہنا ہے کہ دھماکہ خودکش تھا یا پلانٹڈ اس کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے رائے ونڈ میں دھماکے کی شدید مذمت کی اور انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے واقعہ کی تحقیقات کا حکم بھی دیدیا ہے۔ رائے ونڈ میں دھماکے کے بعد وزراء صحت خواجہ عمران نذیر، خواجہ سلمان رفیق نے جناح ہسپتال کا دورہ کیا اور دھماکہ میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کی، اس موقع پر انہوں نے خواجہ عمران نذیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر دہشت گردوں نے لاہور کو نشانہ بنایا ہے جبکہ پولیس اہلکاروں نے دہشت گردوں کی اس بزدلانہ کارروائی کو اپنے سینے پر لیا ہے،قوم کو لاہور پولیس کے ایسے نوجوانوں پر فخر ہے اور پوری قوم انہیں خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں کو ہسپتال میں بہترین علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ ڈی ایچ کیو رائے ونڈ اور شریف میڈیکل کمپلیکس سے زخمیوں کو جناح ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ جہاں پر انہیں بہتر طبی امدادی سہولیات فراہم کی جائیں گی ، انہوں نے کہا شہر کے دیگر سرکاری ہسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے ۔ جناح ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے دیگر ہسپتالوں سے سینئرز پروفیسرز اور ڈاکٹرز کو جناح ہسپتال میں بلا لیا گیا ہے تاکہ زخمی ہونے والے شہریوں کو بہتر طبی امداد فراہم کی جا سکے۔آئی جی پنجاب پولیس کیپٹن (ر) عارف نواز نے رائے ونڈ میں ہونے والے دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بظاہر تو یہ خودکش دھماکہ لگتا ہے لیکن تحقیقاتی ٹیمیں تفتیش کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد شہید ہوئے ہیں۔کمشنر لاہور سمیر احمد سید نے رائے ونڈ میں ہونے والے دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکہ تبلیغی اجتماع کے لئے بنایا گیا نثار چیک پوائنٹ پر ہوا ہے جس میں 5 پولیس اہلکار شہید ہوئے ہیں جبکہ 4 عام شہری شہید ہوئے ہیں،زخمیوں میں ا ے ایس پی اور ایس ایچ او شامل ہیں جن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ابتدائی طور پر یہ خود کش دھماکہ لگتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے تحقیقات کر رہے ہیں۔ اجتماع کی وجہ سے رائے ونڈ میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے تھے ان کی مدد سے بھی تفتیش کو آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 500 سے زائد اہلکار اجتماع کی سکیورٹی کے لئے ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔ دھماکے کے وقت پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی کی تبدیلی کا وقت تھا۔ڈی آئی جی آپریشن ڈاکٹر حیدر اشرف نے رائے ونڈ میں ہونے والے دھماکے کے بارے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکے میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں 5پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد شہید ہوئے ۔شہید ہونے والے والوں میں 2 سب انسپکٹر اور 3 کانسٹیبل شامل ہیں۔ جائے وقوعہ سے خودکش بمبار کے جسمانی اعضا ملے ہیں۔ ابتدائی طور پر دھماکے میں موٹر سائیکل کے استعمال کی اطلاعات ہیں ۔ دھماکے سے قبل حملہ آور نے تبلیغی اجتماع میں داخل ہونے کی کوشش کی ، چیک پوسٹ پر پولیس اہلکاروں کے روکنے پر دہشت گرد نے دھماکہ کر دیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ تمام زخمیوں کو بہتر طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ سکیورٹی اداروں کی معاونت سے تحقیقات کی جا رہی ہے کہ حملہ آور کس کے ساتھ آیا تھا۔ حملہ آور کے جسمانی اعضاء اور دیگر شواہد اکٹھے کر کے فرانزک لیب میں بھجوائے جا رہے ہیں۔حملہ آور اگر تبلیغی اجتماع میں داخل ہو جاتا تو خدانخواستہ زیادہ جانی نقصان کا اندیشہ تھا، انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ شہید ہونے والے افراد کی مغفرت اور بلند درجات کے لئے دعا کریں۔ (وقاص)رائے ونڈ میں نثار چیک پوسٹ پر دھماکے کے نتیجہ میں زخمی ہونے والے 14 پولیس اہلکاروں کو رائے ونڈ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں طبی امداد کے لئے لایا گیا جن میں سے 4 پولیس اہلکار شہید ہو گئے ہیں۔ ٹی ایچ کیو ہسپتال میں 9 شہریوں کو طبی امداد کے لئے لایا گیا جن میں سے 3 شہری اس افسوس ناک واقعہ میں شہید ہو گئے جبکہ 6 شہریوں کا علاج جاری ہے۔ 14 شہریوں کو جنرل ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں پر انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے ،بتایا گیا ہے کہ جنرل ہسپتال میں لائے گئے متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے رائیونڈروڈ پر پولیس چیک پوسٹ کے قریب دھماکہ کی شدید مذمت کی ہے ۔وزیر اعلی نے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے ۔وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے رائیونڈ روڈ پر پولیس چوکی کے قریب دھماکے میں پولیس اہلکاروں سمیت قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکیا ہے ۔وزیر اعلی نے شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لواحقین سے دلی ہمدردی اور اظہار تعزیت کیا ہے ۔وزیر اعلی نے انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں اور دیگر افراد کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں۔وزیر اعلی نے کہا کہ دہشت گردی کے اس واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔شہید ہونے والے ہمارے ہیرو ہیں ۔انہوں نے کہا کہ شہداء کی عظیم قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے ۔

Keywords:
bomb blast in raiwind, raiwind dhamaka, raiwind road blast, raiwind blast, bomb blast in pakistan, raiwind blast 14 march 2018, raiwind

Related Article

Write a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *